پیچھے ره جانے والے لوگ رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کے جانے کے بعد اپنے بیٹھے رہنے پر خوش ہیں انہوں نے اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرنا ناپسند رکھا اور انہوں نے کہہ دیا کہ اس گرمی میں مت نکلو۔ کہہ دیجئے کہ دوزخ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے، کاش کہ وه سمجھتے ہوتے۔
M.A.S. Abdel Haleem
Those who were left behind were happy to stay behind when God’s Messenger set out; they hated the thought of striving in God’s way with their possessions and their persons. They said to one another, ‘Do not go [to war] in this heat.’ Say, ‘Hellfire is hotter.’ If only they understood!
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
جن لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کریں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ "اس سخت گرمی میں نہ نکلو" ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
بہت خوش ہوگئے پیچھے رہ جانے والے اپنے بیٹھ رہنے پر اللہ کے رسول ﷺ کے (جانے کے) بعد اور انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ جہاد کرتے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں اور (دوسروں سے بھی) کہنے لگے کہ اس گرمی میں مت نکلو (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجئے جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے کاش ان لوگوں کو فہم حاصل ہوتا
Fatah Muhammad Jalandhari
جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے