پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وه رشتہدار ہی ہوں اس امر کے ﻇاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔
M.A.S. Abdel Haleem
It is not fitting for the Prophet and the believers to ask forgiveness for the idolaters- even if they are related to them- after having been shown that they are the inhabitants of the Blaze:
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
نبی کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں زیبا نہیں کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ اُن کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جب کہ ان پر یہ بات کھُل چکی ہے کہ وہ جہنّم کے مستحق ہیں۔
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
نبی ﷺ اور اہل ایمان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ استغفار کریں مشرکین کے لیے خواہ وہ ان کے قرابت دارہی ہوں اس کے بعد جبکہ ان پر واضح ہوچکا کہ وہ لوگ جہنمی ہیں
Fatah Muhammad Jalandhari
پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں