جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے۔
M.A.S. Abdel Haleem
Remember when you were on the near side of the valley, and they were on the far side and the caravan was below you. If you had made an appointment to fight, you would have failed to keep it [but the battle took place] so that God might bring about something already ordained, so that those who were to die might die after seeing a clear proof, and so that those who were to live might live after seeing a clear proof- God is all hearing and all seeing.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاوٴ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل ) کی طرف تھا۔ اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرار داد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ زندہ رہے ، یقیناً خدا سُننے اور جاننے والا ہے۔
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
جب تم لوگ تھے قریب والے کنارے پر اور وہ لوگ تھے دور والے کنارے پر اور قافلہ تم سے نیچے تھا اور اگر تم لوگ آپس میں میعاد ٹھہرا کر نکلتے تو بھی وقت مقررہ (پر پہنچنے) میں تم ضرور مختلف ہوجاتے لیکن (یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ فیصلہ کردے اس کام کا جو ہونے ہی والا تھا تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ ہلاک ہو بات واضح ہوجانے کے بعد اور جسے زندہ رہنا ہے وہ زندہ رہے واضح دلیل کی بنا پر۔ یقیناً اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
Fatah Muhammad Jalandhari
جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے