سو جب ان پر خوشحالی آجاتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہئے اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے۔ یاد رکھو کہ ان کی نحوست اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔
M.A.S. Abdel Haleem
then, when something good came their way, they said, ‘This is our due!’. When something bad came, they ascribed it to the evil omen of Moses and those with him, but their ‘evil omen’ was really from God, though most of them did not realize it.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اِسی کے مستحق ہیں، اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فال بد ٹھیراتے، حالانکہ در حقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی، مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
توجب بھی حالات بہتر ہوجاتے تو وہ لوگ کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو اسے وہ نحوست سمجھتے موسیٰ ؑ اور آپ ؑ کے ساتھیوں کی) آگاہ ہوجاؤ کہ ان کی شومئ قسمت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں
Fatah Muhammad Jalandhari
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے