آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے اور رات دن کا پورا اندازه اللہ تعالیٰ کو ہی ہے، وه (خوب) جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے پس اس نے تم پر مہربانی کی لہٰذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو، وه جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد بھی کریں گے، سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ﺛواب میں بہت زیاده پاؤ گے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ. مہربان ہے
M.A.S. Abdel Haleem
[Prophet], your Lord is well aware that you sometimes spend nearly two-thirds of the night at prayer––sometimes half, sometimes a third––as do some of your followers. God determines the division of night and day. He knows that you will not be able to keep a measure of it and He has relented towards all of you, so recite as much of the Quran as is easy for you. He knows that some of you will be sick, some of you travelling through the land seeking God’s bounty, some of you fighting in God’s way: recite as much as is easy for you, keep up the prayer, pay the prescribed alms, and make God a good loan. Whatever good you store up for yourselves will be improved and increased for you. Ask God for His forgiveness, He is most forgiving, most merciful.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اے نبیؐ ، تمہارا ربّ جانتا ہے کہ تم کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتا ہے۔ اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے ، اُسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کر سکتے، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ اُسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہوں گے، کچھ دُوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں، اور کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔ پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو، نماز قائم کرو، زکوٰة دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔ جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاوٴ گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے۔ اللہ سے مغفرت مانگتے رہو، بے شک اللہ بڑا غفور و رحیم ہے
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
(اے نبی ﷺ !) یقینا آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ قیام کرتے ہیں کبھی دو تہائی رات کے قریب کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی رات اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں ان میں سے بھی ایک جماعت آپ کے ساتھ (کھڑی) ہوتی ہے۔ اور اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ کرتا ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اس کی پابندی نہیں کرسکو گے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی ہے تو اب قرآن سے جتنا بآسانی پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ اللہ کے علم میں ہے کہ تم میں کچھ لوگ مریض ہوں گے اور بعض دوسرے زمین میں سفر کریں گے اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہوں گے اور کچھ اللہ کی راہ میں قتال کر رہے ہوں گے چناچہ جس قدر تمہارے لیے آسان ہو اس میں سے پڑھ لیا کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرض حسنہ دو۔ اور جو بھلائی بھی تم آگے بھیجو گے اپنی جانوں کے لیے اسے موجود پائو گے اللہ کے پاس بہتر اور اجر میں بڑھ کر۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو۔ یقینا اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا رحمت فرمانے والا ہے۔
Fatah Muhammad Jalandhari
تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہوسکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض خدا کے فضل (یعنی معاش) کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا پڑھ لیا کرو۔ اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو۔ اور جو عمل نیک تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ تر پاؤ گے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے