اور تم ہمارے پاس تنہا تنہا آگئے جس طرح ہم نے اول بار تم کو پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اس کو اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے اور ہم تو تمہارے ہمراه تمہارے ان شفاعت کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم دعویٰ رکھتے تھے کہ وه تمہارے معاملے میں شریک ہیں۔ واقعی تمہارے آپس میں تو قطع تعلق ہوگیا اور وه تمہارا دعویٰ سب تم سے گیا گزرا ہوا۔
M.A.S. Abdel Haleem
[God will say], ‘Now you return to Us, alone, as We first created you: you have left behind everything We gave you, nor do We see those intercessors of yours that you claimed were partners of God. All the bonds between you have been severed, and those about whom you made such claims have deserted you.’
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
(اور اللہ فرمائے گا) "لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا، جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے، تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے"
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
(پھر ان سے کہا جائے گا) اور اب آگئے ہونا ! ہمارے پاس اکیلے اکیلے جیسا کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ اور تم چھوڑ آئے ہو اپنے پیچھے وہ سب کچھ جس میں ہم نے تمہیں لپیٹ دیا تھا اور ہم نہیں دیکھ رہے تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارشی بھی جن کے بارے میں تمہیں زعم تھا کہ وہ تمہارے معاملے میں شریک ہیں اب تمہارے مابین سارے رشتے ٹوٹ چکے اور وہ سب چیزیں تم سے گم ہوگئیں جن کا تم زعم کیا کرتے تھے
Fatah Muhammad Jalandhari
اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے