آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔
M.A.S. Abdel Haleem
Say, ‘Come! I will tell you what your Lord has really forbidden you. Do not ascribe anything as a partner to Him; be good to your parents; do not kill your children in fear of poverty’- We will provide for you and for them- ‘ stay well away from committing obscenities, whether openly or in secret; do not take the life God has made sacred, except by right. This is what He commands you to do: perhaps you will use your reason.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ آوٴ میں تمہیں سُناوٴں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: 27___() یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،28(۲) اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو،29(۳) اور اپنی اولاد کو مُفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے۔(۴) اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاو30ٴ خواہ وہ کُھلی ہوں یا چُھپی۔(۵) اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔3یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
کہیے آؤ میں تمہیں سناؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا چیزیں حرام کی ہیں یہ کہ کسی شے کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو تنگ دستی کے خوف سے ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے) اور بےحیائی کے کاموں کے قریب بھی مت جاؤ خواہ وہ ظاہر ہوں یا خفیہ اور مت قتل کرو اس جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ یہ باتیں ہیں جن کی اللہ تمہیں وصیت کر رہا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو
Fatah Muhammad Jalandhari
کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو