اے جنات اور انسانوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی پیغمبر نہیں آئے تھے، جو تم سے میرے احکام بیان کرتے اور تم کو اس آج کے دن کی خبر دیتے؟ وه سب عرض کریں گے کہ ہم اپنے اوپر اقرار کرتے ہیں اور ان کو دنیاوی زندگی نے بھول میں ڈالے رکھا اور یہ لوگ اقرار کرنے والے ہوں گے کہ وه کافر تھے۔
M.A.S. Abdel Haleem
‘Company of jinn and mankind! Did messengers not come from among you to recite My revelations to you and warn that you would meet this Day?’ They will say, ‘We testify against ourselves.’ The life of this world seduced them, but they will testify against themselves that they rejected the truth:
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
(اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ) ”اے گروہِ جِن و انس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اِس دن کے انجام سے ڈراتے تھے“؟ وہ کہیں گے ”ہاں ! ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں“۔ آج دُنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے، مگر اُس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے پاس نہیں آگئے تھے رسول تم ہی میں سے جو سناتے تھے تمہیں میری آیات اور تمہیں خبردار کرتے تھے تمہارے اس دن کی ملاقات سے۔ وہ کہیں گے کہ ہم گواہ ہیں اپنی جانوں پر اور انہیں دھوکے میں ڈالے رکھا دنیوی زندگی نے اور وہ خود گواہی دیں گے اپنے خلاف کہ وہ یقیناً کفر کی روش پر چلتے رہے
Fatah Muhammad Jalandhari
اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے