تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان (طلاق والی) عورتوں کو رکھو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ اور اگر وه حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دے دو اور باہم مناسب طور پر مشوره کر لیا کرو اور اگر تم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی.
M.A.S. Abdel Haleem
House the wives you are divorcing according to your means, wherever you house yourselves, and do not harass them so as to make their lives difficult. If they are pregnant, maintain them until they are delivered of their burdens; if they suckle your infants, pay them for it. Consult together in a good way- if you make difficulties for one another, another woman may suckle the child for the father––
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اُن کو (زمانہ عدّت میں) اُسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسّر ہو،اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہوجائے۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچےکو) دُودھ پلائیں تو ان کی اُجرت انہیں دو، اور بھلے طریقےسے (اُجرت کا معاملہ) باہمی گفت وشنید سے طے کر لو۔ لیکن اگر تم نے (اُجرت طے کرنے میں) ایک دُوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دُودھ پلالے گی۔
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اور ان عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اپنی حیثیت کے مطابق اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائو انہیں تنگ کرنے کے لیے۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (تمہارے بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کا معاوضہ ادا کرو۔ اور آپس میں مشورہ کرلیا کرو بھلے طریقے سے۔ اور اگر تم ایک دوسرے سے تنگی محسوس کرو تو پھر کوئی اور عورت اس کے لیے دودھ پلائے گی۔
Fatah Muhammad Jalandhari
عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچّہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو۔ پھر اگر وہ بچّے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔ اور (بچّے کے بارے میں) پسندیدہ طریق سے مواقفت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچّے کو) اس کے (باپ کے) کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی