۝ Qur'an

Al-Ma'idah — 5:95

المائدة · Juz 7 · page 123
Arabic — Uthmani
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقْتُلُوا۟ ٱلصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُۥ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ ٱلنَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِۦ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ هَدْيًۢا بَـٰلِغَ ٱلْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّـٰرَةٌ طَعَامُ مَسَـٰكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِۦ ۗ عَفَا ٱللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ ٱللَّهُ مِنْهُ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ ذُو ٱنتِقَامٍ
Maulana Muhammad Junagarhi
اے ایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت احرام میں ہو۔ اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہوگا جو کہ مساوی ہوگا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کردیں خواه وه فدیہ خاص چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے اور خواه کفاره مساکین کو دے دیا جائے اور خواه اس کے برابر روزے رکھ لئے جائیں تاکہ اپنے کئے شامت کا مزه چکھے، اللہ تعالیٰ نے گذشتہ کو معاف کردیا اور جو شخص پھر ایسی ہی حرکت کرے گا تو اللہ انتقام لے گا اور اللہ زبردست ہے انتقام لینے واﻻ۔
M.A.S. Abdel Haleem
You who believe, do not kill game while you are in the state of consecration [for pilgrimage]. If someone does so intentionally the penalty is an offering of a domestic animal brought to the Kaba, equivalent- as judged by two just men among you- to the one he has killed; alternatively, he may atone by feeding the needy or by fasting an equivalent number of days, so that he may taste the full gravity of his deed. God forgives what is past, but if anyone re-offends, God will exact the penalty from him: God is mighty, and capable of exacting the penalty.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اِحرام کی حالت میں شکار نہ مارو، اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہو چکا اُسے اللہ نے معاف کردیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اے ایمان والو ! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو کسی شکار کو قتل مت کرو تو جو کوئی تم میں سے اسے قتل (شکار) کر بیٹھے جان بوجھ کر تو پھر اس کا کفارہّ ہوگا اسی طرح کا ایک چوپایہ جیسا کہ اس نے قتل کیا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے یہ نذر کی حیثیت سے خانہ کعبہ تک پہنچایا جائے یا پھر اس کا کفارہ ہے کچھ مساکین کو کھانا کھلانا تاکہ وہ اپنے کیے کی سزا چکھے اللہ معاف کرچکا ہے جو پہلے ہوچکا ہے لیکن جو کوئی پھر ایسا کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور یقیناً اللہ تعالیٰ زبردست ہے انتقام لینے والا
Fatah Muhammad Jalandhari
مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے
Search for more verses and hadith on the same theme — Qur'an & Hadith search ↗