اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے واﻻ ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا اور ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول ﻇاہر دلیلیں لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر لوگ زمین میں ﻇلم و زیادتی اور زبردستی کرنے والے ہی رہے۔
M.A.S. Abdel Haleem
On account of [his deed], We decreed to the Children of Israel that if anyone kills a person- unless in retribution for murder or spreading corruption in the land- it is as if he kills all mankind, while if any saves a life it is as if he saves the lives of all mankind. Our messengers came to them with clear signs, but many of them continued to commit excesses in the land.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ ”جس نے کسی انسان کو خُون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانون کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی“۔ مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسُول پے درپے ان کے پاس کُھلی کُھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (تورات میں) یہ بات لکھ دی تھی کہ جس کسی نے کسی انسان کو قتل کیا بغیر کسی قتل کے قصاص کے یا بغیر زمین میں فساد پھیلانے (کے جرم کی سزا) کے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے اس (کسی ایک انسان) کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری نوع انسانی کو زندہ کردیا اور ان کے پاس ہمارے رسول آئے تھے واضح نشانیاں لے کر لیکن اس کے باوجود ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں کرتے پھر رہے ہیں
Fatah Muhammad Jalandhari
اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں