جو لوگ اپنی جانوں پر ﻇلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں، تم کس حال میں تھے؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشاده نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وه پہنچنے کی بری جگہ ہے۔
M.A.S. Abdel Haleem
When the angels take the souls of those who have wronged themselves, they ask them, ‘What circumstances were you in?’ They reply, ‘We were oppressed in this land,’ and the angels say, ‘But was God’s earth not spacious enough for you to migrate to some other place?’ These people will have Hell as their refuge, an evil destination,
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی رُوحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مُبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے۔ فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہ بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
یقیناوہ لوگ کہ جن کو فرشتے اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے وہ ان سے کہیں گے یہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ کہیں گے ہم مجبور اور کمزوربنا دیے گئے تھے اس زمین میں وہ (فرشتے) کہیں گے کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ تو یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے ٹھہرنے کی۔
Fatah Muhammad Jalandhari
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے