۝ Qur'an

An-Nisa — 4:62

النساء · Juz 5 · page 88
Arabic — Uthmani
فَكَيْفَ إِذَآ أَصَـٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنْ أَرَدْنَآ إِلَّآ إِحْسَـٰنًا وَتَوْفِيقًا
Maulana Muhammad Junagarhi
پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا اراده تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔
M.A.S. Abdel Haleem
If disaster strikes them because of what they themselves have done, then they will come to you, swearing by God, ‘We only wanted to do good and achieve harmony.’
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب اِن کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بَھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
پھر اس وقت کیا ہوا جب ان پر کوئی مصیبت آگئی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے پھر وہ آپ کے پاس آئے اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے کہ ہم تو صرف بھلائی اور موافقت چاہتے تھے
Fatah Muhammad Jalandhari
تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا
Search for more verses and hadith on the same theme — Qur'an & Hadith search ↗