توراة کے نزول سے پہلے (حضرت) یعقوب (علیہ السلام) نے جس چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا اس کے سوا تمام کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے، آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو توراة لے آو اور پڑھ کر سناؤ.
M.A.S. Abdel Haleem
Except for what Israel made unlawful for himself, all food was lawful to the Children of Israel before the Torah was revealed. Say, ‘Bring the Torah and read out [the relevant passage] if you are telling the truth.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعتِ محمد ؐ ی میں حلال ہیں)بنی اسرئیل کے لیے بھی حلال تھیں، البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنھیں تورات کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ ان سے کہو، اگر تم (اپنے اعتراض میں)سچّے ہو تو لاؤ تورات اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
کھانے کی ساری چیزیں (جو شریعت محمدی ﷺ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں سوائے ان چیزوں کے جنہیں اسرائیل (حضرت یعقوب (ؑ) نے حرام ٹھہرا لیا تھا اپنی جان پر اس سے پہلے کہ تورات نازل ہو (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے لاؤ تورات اور اس کو پڑھو اگر تم (اپنے اعتراض میں) سچے ہو
Fatah Muhammad Jalandhari
بنی اسرائیل کے لیے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)