۝ Qur'an

Ali 'Imran — 3:35

آل عمران · Juz 3 · page 54
Arabic — Uthmani
إِذْ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ عِمْرَٰنَ رَبِّ إِنِّى نَذَرْتُ لَكَ مَا فِى بَطْنِى مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّىٓ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
Maulana Muhammad Junagarhi
جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام آزاد کرنے کی نذر مانی، تو میری طرف سے قبول فرما! یقیناً تو خوب سننے واﻻ اور پوری طرح جاننے واﻻ ہے۔
M.A.S. Abdel Haleem
Imran’s wife said, ‘Lord, I have dedicated what is growing in my womb entirely to You; so accept this from me. You are the One who hears and knows all,’
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
(وہ اس وقت سُن رہا تھا)جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ ”میرے پر ور دگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں ، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا۔ میری اس پیشکش کو قبو ل فرما۔ تُو سننے اور جاننے والاہے“۔
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
جب کہا عمران کی بیوی نے کہ اے میرے ربّ ! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اس کو میں تیری ہی نذر کرتی ہوں ہر ذمہ داری سے چھڑا کر پس تو اس کو میری طرف سے قبول فرما ! یقیناً تو سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔
Fatah Muhammad Jalandhari
(وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے والا (اور) جاننے والا ہے
Search for more verses and hadith on the same theme — Qur'an & Hadith search ↗