یقیناً اللہ تعالیٰ کسی مثال کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا، خواه مچھر کی ہو، یا اس سے بھی ہلکی چیز کی۔ ایمان والے تو اسے اپنے رب کی جانب سے صحیح سمجھتے ہیں اور کفار کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ نے کیا مراد لی ہے؟ اس کے ذریعے بیشتر کو گمراه کرتا ہے اور اکثر لوگوں کو راه راست پر ﻻتا ہے اور گمراه تو صرف فاسقوں کو ہی کرتا ہے۔
M.A.S. Abdel Haleem
God does not shy from drawing comparisons even with something as small as a gnat, or larger: the believers know it is the truth from their Lord, but the disbelievers say, ‘What does God mean by such a comparison?’ Through it He makes many go astray and leads many to the right path. But it is only the rebels He makes go astray:
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
ہاں ، اللہ اس سے ہر گز نہیں شرماتا کہ مچھّر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔جو لوگ حق بات کو قبو ل کرنے والے ہیں،وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کرجان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے ربّ ہی کی طرف سے آیا ہے ،اور جو ماننے والے نہیں ہے ، وہ انہیں سُن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔ اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کر تا ہے، جو فاسق ہیں،
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
یقینا اللہ اس سے نہیں شرما تاکہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے۔ تو جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ یقیناً حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔ اور جنہوں نے کفر کیا سو وہ کہتے ہیں کہ کیا مطلب تھا اللہ کا اس مثال سے ؟ گمراہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بہتوں کو اور ہدایت دیتا ہے اسی کے ذریعے سے بہتوں کو۔ اور نہیں گمراہ کرتا وہ اس کے ذریعے سے مگر صرف سرکش لوگوں کو۔
Fatah Muhammad Jalandhari
الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو