یا اس شخص کے مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی، وه کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟ تو اللہ تعالی نے اسے مار دیا سو سال کے لئے، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا، پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ﻇاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
M.A.S. Abdel Haleem
Or take the one who passed by a ruined town. He said, ‘How will God give this life when it has died?’ So God made him die for a hundred years, and then raised him up, saying, ‘How long did you stay like that?’ He answered, ‘A day, or part of a day.’ God said, ‘No, you stayed like that for a hundred years. Look at your food and drink: they have not gone bad. Look at your donkey- We will make you a sign for the people- look at the bones: see how We bring them together and clothe them with flesh!’ When all became clear to him, he said, ‘Now I know that God has power over everything.’
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
یا پھر مثال کے طور پر اس شخص کو د یکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتیوں پر اوندھی گری پڑی تھی۔ اس نے کہا:”یہ آبادی، جو ہلاک ہو چکی ہے، اسےاللہ کس طرح دو بارہ زندگی بخشے گا؟”اس پر اللہ نےاس کی رُوح قبض کر لی اور وہ سو برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا:”بتاؤ ، کتنی مدّت پڑے رہے ہو؟”اس نے کہا:”ایک دن یا چند گھنٹے رہاہوں گا۔”فرمایا:”تم پر سو برس اسی حالت میں گزر چکے ہیں۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیّر نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو(کہ اسکا پنجر تک بوسیدہ ہورہا ہے )۔ اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کےلیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں۔پھر دیکھو کے ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں۔”اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایا ں ہو گئی ، تو اس نے کہا”میں جانتا ہو ں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔”
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
یا پھر جیسے کہ وہ شخص (اس کا واقعہ ذرایاد کرو) جس کا گزر ہوا ایک بستی پر اور وہ اوندھی پڑی ہوئی تھی اپنی چھتوں پر اس نے کہا کہ اللہ اس بستی کو اس کے اس طرح مردہ اور برباد ہوجانے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا ؟ تو اللہ نے اس پر موت وارد کردی سو برس کے لیے اور پھر اس کو اٹھایا پوچھا کتنا عرصہ یہاں رہے ہو ؟ کہنے لگا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ تو ذرا تم اپنے کھانے اور اپنے مشروب کو (جوسفر میں تمہارے ساتھ تھا) دیکھو ان کے اندر کوئی بساند پیدا نہیں ہوئی اور (دوسری طرف) اپنے گدھے کو دیکھو (ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں) اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اب ان ہڈیوں کو دیکھو کس طرح ہم انہیں اٹھاتے ہیں پھر (تمہاری نگاہوں کے سامنے) ان کو گوشت پہناتے ہیں پس جب اس کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی وہ پکار اٹھا کہ میں نے پوری طرح جان لیا (اور مجھے یقین کامل حاصل ہوگیا) کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے
Fatah Muhammad Jalandhari
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے)رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے