اور اگر تم عورتوں کو اس سے پہلے طلاق دے دو کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کردیا ہو تو مقرره مہر کا آدھا مہر دے دو، یہ اور بات ہے کہ وه خود معاف کردیں یا وه شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گره ہے تمہارا معاف کردینا تقویٰ سے بہت نزدیک ہے اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
M.A.S. Abdel Haleem
If you divorce wives before consummating the marriage but after fixing a bride-gift for them, then give them half of what you had previously fixed, unless they waive [their right], or unless the one who holds the marriage tie waives [his right]. Waiving [your right] is nearer to godliness, so do not forget to be generous towards one another: God sees what you do.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو ، لیکن مہرمقرر کیا جاچکا ہو، جس کے اختیار میں عقدِ نکاح ہے، نرمی سے کام لے( اور پورا مہر دیدے)، اور تم (یعنی مرد)نرمی سے کام لو، تو یہ تقوٰی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیّاضی کو نہ بھولو۔ تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہاہے۔
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اور اگر تم عورتوں کو طلاق دو ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور تم ٹھہرا چکے تھے ان کے لیے ایک متعینّ مہر تو جو مہر تم نے طے کیا تھا اب اس کا آدھا ادا کرنا لازم ہے الایہ کہ وہ معاف کردیں یا وہ شخص درگزر سے کام لے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور یہ کہ تم مرد درگزر کرو تو یہ تقویٰ سے قریب تر ہے اور اپنے مابین احسان کرنا مت بھلا دو یقیناً جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے
Fatah Muhammad Jalandhari
اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے