اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کئے طلاق دے دو تو بھی تم پر کوئی گناه نہیں، ہاں انہیں کچھ نہ کچھ فائده دو۔ خوشحال اپنے انداز سے اور تنگدست اپنی طاقت کے مطابق دستور کے مطابق اچھا فائده دے۔ بھلائی کرنے والوں پر یہ ﻻزم ہے۔
M.A.S. Abdel Haleem
You will not be blamed if you divorce women when you have not yet consummated the marriage or fixed a bride-gift for them, but make fair provision for them, the rich according to his means and the poor according to his- this is a duty for those who do good.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
تم پر کچھ گناہ نہیں، اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں انھیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے۔ خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر تم ایسی بیویوں کو طلاق دے دو جن کو نہ تو تم نے ابھی چھوا ہو اور نہ ان کے لیے مہر مقرر کیا ہو اور ان کو کچھ خرچ دو صاحب وسعت پر اپنی حیثیت کے مطابق ضروری ہے اور تنگ دست پر اپنی حیثیت کے مطابق جو خرچ کہ قاعدہ کے موافق ہے یہ حق ہے محسنین پر
Fatah Muhammad Jalandhari
اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے