ہاں جو شخص وصیت کرنے والے کی جانب داری یا گناه کی وصیت کردینے سے ڈرے پس وه ان میں آپس میں اصلاح کرادے تو اس پر گناه نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔
M.A.S. Abdel Haleem
But if anyone knows that the testator has made a mistake, or done wrong, and so puts things right between the parties, he will incur no sin: God is most forgiving and merciful.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
پھر جس کو اندیشہ ہو کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے جانب داری یا حق تلفی کا اور وہ ان کے مابین صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے
Fatah Muhammad Jalandhari
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے