اور تابعدار لوگ کہنے لگیں گے، کاش ہم دنیا کی طرف دوباره جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہوجائیں جیسے یہ ہم سے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال دکھائے گا ان کو حسرت دﻻنے کو، یہ ہرگز جہنم سے نہ نکلیں گے۔
M.A.S. Abdel Haleem
the followers will say, ‘If only we had one last chance, we would disown them as they now disown us.’ In this way, God will make them see their deeds as a source of bitter regret: they shall not leave the Fire.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے ، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بے زاری ظاہر کر رہے ہیں ، ہم ان سے بے زار ہو کر دکھا دیتے۔ یوں اللہ ان لوگو ں کے وہ اعمال ، جو یہ دنیا میں کر رہے ہیں ،ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اور جو ان کے پیروکار تھے وہ کہیں گے کہ اگر کہیں ہمیں دنیا میں ایک بار لوٹنا نصیب ہوجائے تو ہم بھی ان سے اسی طرح اظہار براءت کریں گے جیسے آج یہ ہم سے بیزاری ظاہرکر رہے ہیں اس طرح اللہ ان کو ان کے اعمال حسرتیں بنا کر دکھائے گا لیکن وہ اب آگ سے نکلنے والے نہیں ہوں گے۔ اب ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب نہیں ہوگا
Fatah Muhammad Jalandhari
(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے