مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ.
M.A.S. Abdel Haleem
And tell believing women that they should lower their glances, guard their private parts, and not display their charms beyond what [it is acceptable] to reveal; they should let their headscarves fall to cover their necklines and not reveal their charms except to their husbands, their fathers, their husbands’ fathers, their sons, their husbands’ sons, their brothers, their brothers’ sons, their sisters’ sons, their womenfolk, their slaves, such men as attend them who have no sexual desire, or children who are not yet aware of women’s nakedness; they should not stamp their feet so as to draw attention to any hidden charms. Believers, all of you, turn to God so that you may prosper.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اور اے نبیؐ ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناوٴ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بناوٴ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے : شوہر، باپ، شوہروں کے باپ ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے ، بھائی ، بھائیوں کے بیٹے ، بہنوں کے بیٹے ، اپنے میل جول کی عورتیں ، اپنے مملوک ، وہ زیرِ دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں ، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پاوٴں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے۔ اے مومنو، تم سب مِل کر اللہ سے توبہ کرو ، توقع ہے کہ فلاح پاوٴ گے۔
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اور مؤمن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور وہ اپنی زینت کا اظہار نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے از خود ظاہر ہوجائے اور چاہیے کہ وہ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے ُ بکلّ مار لیا کریں اور وہ نہ ظاہر کریں اپنی زینت کو (وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں کسی پر) سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپوں کے یا اپنے شوہروں کے باپوں کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں (بھتیجوں) کے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں (بھانجوں) کے یا اپنی (جان پہچان کی) عورتوں کے یا ان کے جن کے مالک ہیں ان کے داہنے ہاتھیا ایسے زیردست مردوں کے جو اس طرح کی غرض نہیں رکھتے یا ان لڑکوں کے جو عورتوں کے مخفی معاملات سے ابھی ناواقف ہیں اور وہ اپنے پاؤں زمین پر مار کر نہ چلیں کہ ان کی اس زینت میں سے کچھ ظاہر ہوجائے جسے وہ چھپاتی ہیں اور اے اہل ایمان ! تم سب کے سب مل کر اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
Fatah Muhammad Jalandhari
اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ