۝ Qur'an

Al-Hajj — 22:11

الحج · Juz 17 · page 333
Arabic — Uthmani
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَعْبُدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُۥ خَيْرٌ ٱطْمَأَنَّ بِهِۦ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ ٱنقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ خَسِرَ ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْخُسْرَانُ ٱلْمُبِينُ
Maulana Muhammad Junagarhi
بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ایک کنارے پر (کھڑے) ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر کوئی نفع مل گیا تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آگئی تو اسی وقت منھ پھیر لیتے ہیں، انہوں نے دونوں جہان کانقصان اٹھا لیا۔ واقعی یہ کھلا نقصان ہے.
M.A.S. Abdel Haleem
There are also some who serve God with unsteady faith: if something good comes their way, they are satisfied, but if they are tested, they revert to their old ways, losing both this world and the next- that is the clearest loss.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے، اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آگئی تو اُلٹا پھر گیا۔ اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ یہ ہے صریح خسارہ۔
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اور لوگوں میں سے کوئی وہ بھی ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے کنارے پر رہ کر تو اگر اسے کوئی فائدہ پہنچے تو اس پر مطمئن رہتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو اپنے ُ منہ کے بل الٹا پھرجاتا ہے وہ خسارے میں رہا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یہی تو کھلا خسارہ ہے
Fatah Muhammad Jalandhari
اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اس کو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ یہی تو نقصان صریح ہے
Search for more verses and hadith on the same theme — Qur'an & Hadith search ↗