اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈاﻻ جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے پس اسے چاہیئے کہ مار ڈالنے میں زیادتی نہ کرے بےشک وه مدد کیا گیا ہے.
M.A.S. Abdel Haleem
Do not take life, which God has made sacred, except by right: if anyone is killed wrongfully, We have given authority to the defender of his rights, but he should not be excessive in taking life, for he is already aided [by God].
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کے وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اُس کی مدد کی جائے گی
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اور مت قتل کرو اس انسانی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ اور جسے قتل کردیا گیا مظلومی میں تو اس کے ولی کو ہم نے اختیار دیا ہے تو وہ بھی قتل میں حد سے تجاوز نہ کرے اس کی مدد کی جائے گی
Fatah Muhammad Jalandhari
اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت)۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے