اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے، دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وه اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیجے وه کوئی بھلائی نہیں ﻻتا، کیا یہ اور وه جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راه پر، برابر ہوسکتے ہیں؟
M.A.S. Abdel Haleem
God presents another illustration: two men, one of them dumb, unable to do anything, a burden to his carer- whatever task he directs him to, he achieves nothing good- can he be considered equal to one who commands justice and is on the straight path?
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں۔ ایک گونگا بہرا ہے ، کوئی کام نہیں کر سکتا ، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے۔ دُوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہِ راست پر قائم ہے۔ بتاوٴ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اور اللہ نے (اب ایک اور) مثال بیان کی دو اشخاص کی ان میں سے ایک گونگا ہے وہ قدرت نہیں رکھتا کسی بھی چیز پر اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جہاں کہیں بھی وہ (آقا) اسے بھیجتا ہے وہ کوئی خیر لے کر نہیں آتا کیا برابر ہوگا وہ اور وہ جو حکم دیتا ہے عدل کا اور وہ سیدھی راہ پر قائم ہے
Fatah Muhammad Jalandhari
اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟