اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے دوسرے کی ملکیت کا، جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے معقول روزی دے رکھی ہے، جس میں سے وه چھپے کھلے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ سب برابر ہوسکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سب تعریف ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے.
M.A.S. Abdel Haleem
God presents this illustration: a slave controlled by his master, with no power over anything, and another man We have supplied with good provision, from which he gives alms privately and openly. Can they be considered equal? All praise belongs to God, but most of them do not recognize this.
Syed Abul Ala Maududi (Tafheem)
اللہ ایک مثال دیتا ہے ۔ ایک تو ہے غلام، جو دُوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ دُوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھُلے اور چھُپے خوب خرچ کرتا ہے۔ بتاوٴ ، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟۔۔۔۔ الحمدُللہ مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو)نہیں جانتے۔
Bayan-ul-Quran (Dr. Israr Ahmad)
اللہ نے مثال بیان کی ہے ایک غلام مملوک کی جو اختیار نہیں رکھتا کسی چیز پر بھی اور (ایک وہ ہے) جس کو ہم نے اپنے پاس سے بہت اچھا رزق دیا ہے اور وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپ کر بھی اور علانیہ بھی کیا یہ (دونوں) برابر ہیں ؟ کل تعریف اور شکر اللہ کے لیے ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی
Fatah Muhammad Jalandhari
خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے